ابنا: امریکہ نے اس خطے کے بارے میں خواب دیکھ رکھے ہیں اور وہ اپنے خاص مفادات کے تناظر میں ہی اس خطے سے متعلق پالیسیاں ترتیب دیتا ہے۔ اس کے مفادات میں اس علاقے کے تیل و گیس کے عظیم ذخائر کی جانب بھی اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر خطے سے شاہی نظاموں کا خاتمہ ہوتا ہے اور عوام کی منتخب حکومتیں وجود میں آتی ہیں تو وہ امریکہ کو اس لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گی اور دوسری جانب وہ ملت اسلامیہ کی دشمن صیہونی حکومت کی حمایت بھی نہیں کریں گے۔ پھر اس خطے کی حکومتیں حسنی مبارک حکومت کی طرح صیہونی حکومت کی بقاء اور فلسطینیوں کے لۓ مشکلات کا سبب نہیں بنیں گے۔ بلکہ وہ قدس شریف کی آزادی اور فلسطین کے عوام کے حقوق کی بازیابی کے لۓ کوششیں کریں گی۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل کے لۓ اپنی بقا مشکل ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب امریکہ خطے میں ان شاہی حکومتوں کی مدد کررہا ہے جو اس کےمفادات کی تکمیل کے سلسلے میں اس کی معاون ہیں تو دوسری جانب ان جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنا چاہتا ہے جو امریکی سامراج اور صیہونی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہیں۔ سعودی عرب میں شاہی حکومت قائم ہے ۔ اس ملک میں جہموریت کا کوئي سراغ نہیں ملتا لیکن چونکہ یہ ملک امریکی مفادات کی تکمیل کے لۓ ہر لمحے آمادہ خدمت رہتا ہے اس لۓ آج تک امریکہ نے اس ملک میں جمہوریت کے فقدان کا واویلا نہیں مچایا ہے لیکن اس کے برعکس شام میں عوام کی منتخب جمہوری حکومت ہونے کے باوجود وہ اس ملک میں جمہوریت کی برقراری کے لۓ حتی دہشتگردوں کی مدد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ہے اور طرفہ تماشا یہ کہ امریکہ کو شام میں بزعم خویش جمہوریت کی بحالی اور بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے لۓ سعودی عرب جیسی جمہوریت سے تہی داماں حکومت کا تعاون بھی حاصل ہے۔ امریکہ ، اسرائیل ، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک شام کی حکومت کے خلاف مسلح دہشتگردوں کی مالی ، اسلحہ جاتی امداد کے ذریعے بشار اسد کی حکومت کو صرف اس لۓ گرانا چاہتا ہے تاکہ خطے میں امریکہ کے سامراجی مفادات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے اور ناجائز صیہونی حکومت کو خطے میں اسلامی بیداری کی نتیجے میں جن خطرات کا سامنا ہے ان سے بھی اسے تحفظ مل جائے اور اس کی بقاء کسی خطرے سے دوچار نہ ہو۔ امریکہ ان مقاصد کے لۓ حصول کے لۓ کسی بھی حد تک جانے کے لۓ تیار ہے۔ شام میں دہشتگردوں کے ہاتھوں ہزاروں عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لیکن انسانی حقوق کے دعویدار اس ملک کی حکومتوں کو اس کی کوئي پرواہ نہیں ہے اسے صرف اپنے مفادات کے حصول میں دلچسپی ہے۔ ہزاروں انسانوں کی جانیں جاتی ہیں تو جائیں لیکن اس کے مفادات پر کوئي آنچ نہیں آنی چاہۓ ۔ پورا ملک کھنڈر میں تبدیل ہوتا ہے تو ہو جائے لیکن اسرائیل کی بقاء کوئي خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہۓ۔ شام کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد جہاد اللحام نے امریکی حکام کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا ہےکہ وہ شام کے بحران کو طول دے رہا ہے اور اس ملک کے بحران کے پرامن حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔امریکہ نے شام کا مسئلہ سفارتی طریقے سے حل کرنے کے مقصد سے جنیوا دو کانفرنس کے انعقاد سے اتفاق رائے کیاتھا لیکن اب وہ مختلف حربوں کے ذریعے خود ہی اس کانفرنس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے وہ شام کا مسئلہ سیاسی طریقے حل کرنے کے بجائے طاقت کے زور پر حل کرنے کے درپے ہے اور شام میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں لانا چاہتا ہے لیکن بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بشار اسد کی حکومت گرانے کے لۓ اپنی پوری کوشش کرلی ہے اور اسے اپنا یہ مقصد حاصل کرنے میں ہر میدان میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اور اس بحران کو صرف سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا دوسرا کوئي حل نہیں ہے اور امریکہ کو بھی ایک دن مجبورا اسی حل کو اختیار کرنا پڑے گا۔
.......
/169